قربانی کے جانور میں عقیقہ کا حصہ لینا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسلہ کے بارے میں بڑے جانور کی قربانی میں کوئی شخص عقیقہ کے حصہ لینا چاہے تو لڑکے کےلیے دو حصے لیگا اگر گنجائش نا ہو تو ایک ہی حصہ لینے سے عقیقہ ہوگا کہ نہیں از رووے شرع مدلل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی فقط والسلام المستفی محمد جابر خان فیضی

       جواب

قربانی کے بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ شامل کرنا جائز ہے مذکورہ فی السوال عقیقہ تو ہوجایگا لیکن بہتر یہ ہے کہ لڑکے کے عقیقہ کے لئے دو حصے اور لڑکی کے عقیقہ کے لئے ایک حصہ رکھا جائے اگر کسی کے پاس دو کی استطاعت نہیں ہے تو ایک ہی حصہ لڑکے کے عقیقہ کے لئے کافی ہے
جیسا کہ سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ شریف میں لڑکا اور لڑکی کے عقیقے کی تعداد کے متعلق فرماتے ہیں کہ کم از کم ایک تو ہے ہی اور پسر کے لئے دو افضل ہیں استطاعت نہ ہو تو ایک بھی کافی ہے

فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 586 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ غلام حضور تاج الشریعہ محمد راحت رضا نیپالی

استاد جامعہ غوثیہ ضیاءالعلوم بابا گنج بہرائچ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے