کسی عالم یا حافظ کو ملا جی کہنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  سوال عرض یہ ہے کہ کسی حافظ یا عالم کو ملا کہنا کیسا یعنی ملا جی کہنا کیسا ہے مدلل جواب دے کر مہربانی کریں المستفی محمد نظام الدین

       جواب

لفظ ، ملا ، کی معانی تو صحیح ہیں مثلا نہایت عمدہ لکھنےوالا ، عالم ، فاضل ، وغیرہ {فیروزاللغات} مگر یہ لفظ و علمائے کرام کے لئے بولنا معیوب ہے! بہت سے جہلا نارِ حسد و شرارت نفس میں گرفتار ہو کر کے کسی عالم دین کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ وہ بہت بڑا کٹ ملا ہے فلاں عالم جاھل ملا ہے! اس ملا کو کچھ آتا جاتا نہیں! وہ ملا بنا پھر رہا ہے! وغیرہ وغیرہ اس طریقے سے جاھل عوام بہت سارے نازیبا جملے بول دیتی ہے لہذا لفظ ملا کسی عالم دین کے لئے حسد میں بولا تب تو یہ حرام اشد حرام ہے اور اگربسبب تخفیف و تحقیرعلم بولا تو صریح کفر ہے
سیدی حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتےہیں عالم کو اس لیے برا کہتا ہے کہ وہ عالم ہے توصریح کفر ہے اور اگر بوجہ علم کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دینوی خصومت کےباعث براکہتاہے گالی دیتا تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق و فاجر ہے اور اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب اور خبیث الباطن اور اسکے کفر کا اندیشہ ہے
حدیث شریف میں ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد علماء کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں لایستخف بحقھم الامنافق یعنی علماءکو منافق لوگ ہلکا جانتے ہیں
دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں لیس من امتی من لم یعرف لعالمنا حقه جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت سے نہیں
خلاصہ میں ہے عربی عبارت من ابغض عالما من غیر سبب ظاھر خیف علیہ الکفر ہے جو کسی عالم سے بغیر کسی سبب ظاہری کے بغض رکھتا ہے تو اس کے کفر کا اندیشہ ہے
منح الروض الازھر میں ہے الظاہر انہ یکفر ظاہر ہے کہ وہ کافر ہو جائے گا

فتاویٰ رضویہ ، جلد ٢١ ، ص ١٢٨ تا ١٢٩ {رضافاٶنڈیشن لاہور}
اور مجمع الانھر میں ہے من قال للعالم عویلم استخفافا فقد کفر جو کسی عالم کو مولویا {یاملا} استخفافا کہے وہ کافر ہے {فتاویٰ رضویہ ، جلد ٢١ ، ص ١٢٨ تا ١٢٩ {رضافاٶنڈیشن لاہور} لہذا کسی عالم دین کو ملا مولویا بسبب بغض و عناد کہنا حرام اشد حرام ہے اور بسبب تخفیف علم کہنا کفر ہے نوٹ ۔۔۔ کئی جگہوں پر عموما غیر عالم داڑھی ٹوپی والے کو ملا جی کہہ دیتے ہیں اس میں قباحت نہیں! اسی طریقے سے کچھ انپڑھ لوگ علمائے کرام کو بھی ملا جی کہہ دیتے ہیں حالانکہ ان کی نیت میں کوٸی فساد نہیں ہوتابس وہ ایسی ہی زبان میں بول دیتے ہیں جب بھی بچنا چاہیے کیونکہ یہ جملہ معیوب ہے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللّٰه حنفی بریلوی

مقام دھونرہ بریلی شریف ٢٠ ذی الحجہ بروز بدھ ٣٤٤١؁ھ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے