ماں معذور ہو تو کیا بیٹا ماں کے بدلے حج کر سکتا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسسٔلہ کے بارے میں کہ *زید کے ابواور امی حج کے لیے جانے کے لئے ارادہ کیے ہوئے تھے کہ سال دو سال میں جاؤنگا لیکن اس سے پہلے ہی زید کی امی کو pairalis (لقوا) ہو گیا آدھے بدن یعنی ایک طرفہ اب ان کا ایک ہاتھ تو ذرا بھی نہیں اٹھا سکتی ہیں تو کیا زید اپنی امی کی طرف سے اپنے ابو کے ساتھ جا سکتا ہے* ؟ اس بارے میں جو بھی حکم ہے جیسے (قربانی وغیرہ اور نیت وغیرہ کسکی طرف سے) تفصیل کے ساتھ مکمل تسلی بخش المستفی عبداللہ

       جواب

صورت مسئولہ میں ماں کے بدلے بیٹا حج کو جا سکتا ہے کوئی مضائقہ نہیں
جیسا کہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعت میں حدیث کے حوالے سے یہ نقل فرماتے ہیں کہ ابوداود و تر مذی و نسائی ابی رزین عقیلی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، یہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی
یا رسول ﷲصلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میرے باپ بہت بوڑھے ہیں۔ حج و عمرہ نہیں کرسکتے اور ہودج پر بھی نہیں بیٹھ سکتے
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کرو

(بحوالہ بہار شریعت ح٦ص١٢٠٧)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے