قعدہ اولی میں السلام علیکم کہدیا تو نماز کا کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت ایک مسئلہ ہے مسئلہ یہ ہے کہ امام مغرب کی نماز پڑھا رہا تھا کہ دوسری رکعت یعنی قعدہ اولیٰ میں کھڑاہونا بھول گیاتو اسنے اتنا السلا م علیکم کہا تو کیا نماز سے باہر ہو گیا یا نہیں جواب عنایت فرمائے حوالے کے ساتھ المستفی حسان رضا مرادبادی

       جواب

اگر مغرب کی نماز میں دوسری رکعت میں ہی بھول کر سلام پھیر دیا تو نماز باطل نہ ہوگی جب تک کہ کوئی منافی نماز فعل نہ کیا ہو بلکہ کھڑا ہو جائے اور تیسری رکعت پوری کرے کرے اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیرے نیز یہ گمان بھی نہ ہو کہ مجھ پر اتنی ہی فرض ہے یعنی دو ہی رکعتیں ہیں اور نہ ہی یاد ہوتے ہوئے سلام پھیرا ہو
جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے (سلم المصلی الظھر ) مثلا (الرکعتین توھما) اتمامھا (اتمھا) اربعا (سجد للسہو )لان السلام ساھیا لا یبطل ، لانه دعاء من وجہ (بخلاف ما لو سلم علی ظن) ان فرض الظھر رکعتان ، بان ظن (انه مسافر او انھا الجمعۃ او کان قریب عہد بالاسلام فظن ان فرض الظھر رکعتان،او کان فی صلوۃ العشاء فظن انھا التراویح فسلم) او سلم ذاکرا ان علیہ رکنا حیث تبطل لانه سلام عمد و قیل لا تبطل حتیٰ یقصد به خطاب آدمی ۔اھ

جلد دوم صفحہ نمبر 559 مطبوعہ زکریا بکڈپو
اور بہار شریعت میں ہے ظہر کی نماز پڑھتا تھا اور یہ خیال کرکے کہ چار پوری ہوگئیں دو رکعت پر سلام پھیر دیا تو چار پوری کرلے اور سجدہ سہو کرے اور اگر یہ گمان کیا کہ مجھ پر دو ہی رکعتیں ہیں مثلا اپنے کوئی مسافر تصور کیا یا یہ گمان ہوا کہ نماز جمعہ ہے یا نیا مسلمان ہے سمجھا کہ ظہر کے فرض دو ہی ہیں یا نماز عشاء کو تراویح تصور کیا تو نماز جاتی رہی۔ یوں ہی اگر کوئی رکن فوت ہوگیا اور یاد ہوتے ہوئے سلام پھیر دیا، تو نماز گئ۔ اھ جلد اول حصہ چہارم صفحہ نمبر 718 مطبوعہ مکتبہ المدینہ لہذا صورت مسئولہ فی السوال کی حالت میں کھڑا ہو جائے اور تیسری رکعت کو پڑھنے کے بعد بعد سجدہ سہو کرے اس کے بعد سلام پھیرے نماز مکمل ہوگئ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے