12.10.2022

کسی نیتا کے دئیے ہوئے پیسے مسجد میں استعمال کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا کسی غیر مسلم نیتا کے دیئے ہوئے روپیہ سے مسجد کے فرش یا چھت وغیرہ کا کام کرایا جا سکتا ہے المستفی محمد شاہد علی

       جواب

غیر مسلم نیتا ایم ایل اے یا ایم پی وغیرہ ہے اور اسی فنڈ سے مسجد کے لئے دیا ہے تو لگانا جائز ہے
فتاوی رضویہ میں ہے خزانہ والی ملک کی ذاتی ملک نہیں ہوتا تو اس کے لینے میں کچھ حرج نہیں جبکہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو (فتاویٰ رضویہ شریف جلد ۶صفحہ ۴۶۰) اور گر اپنی ذاتی ملک سے بغیر مانگے دیتا ہے تو مسلمان اسے لیکر مالک ہوجاے اور پھر اپنی جانب سے مسجد میں دیدے تو لینا اور مسجد میں لگانا جائز ہے بشرطیکہ مسجد میں اسکی کچھ مداخلت نہ رہے اور نہ مسلمانو پر احسان اسی طرح اس کا بھی اندیشہ نہ ہو کہ مندر یا رام لیلا میں ہمیں دینا پڑےگا یا اس غیر مسلم کی تعظیم کرنی پڑے گی ورنہ لینا جائز نہیں

ایسا ہی فتاوی رضویہ میں ہے
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمدالمصباحی القادری

مقام قنوج اتر پردیش

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only