12.12.2022

کیا وہابی دیوبندی کی قبر میں بھی حضور ﷺ تشریف لاتے ہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماے کرام مسئلہ ذیل میں کہ وہابی دیوبندی کی قبر میں حضورﷺ تشریف لاتے ہیں یا نہیں ؟ المستفی محمد وارث علی جہان آباد یوپی

       جواب

امت محمدیہ ﷺ کے ہر فرد سے بعد موت تین سوال لازمی ہیں۔جن میں سے تیسرا سوال حضورﷺ کے بارے میں ہوتا ہے جیسا کہ احادیث میں آیا ہے اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت حضورﷺ قبر میں تشریف فرماہوتے ہیں یا نہیں چنانچہ اس سلسلے میں روایات کے اندر کوئی صراحت نہیں ۔ کہ حضور ﷺ تشریف فرما ہوتے ہیں یا نہیں ۔ ہاں بعض علماء کرام خصوصاً شارحینِ کتب احادیث نے لفظ ھٰذا سے جو کہ اشارہ قریب کیلئے آتا ہے استدلال فرمایا کہ حضورﷺ قبر میں جلوہ فرما ہوتے ہیں
جیسا کہ اشعة اللمعات میں فیقولان ماکنت تقول فی ھذالرجل کے تحت ہے باحضار ذات شریف وے درعیانے بایں طریق کہ در قبر مثال وے علیہ السلام حاضر شاختہ باشند و دریں جا بشارتے عظیم مر مشتاقان غم زدہ را کہ اگر بر امید ایں شادی جاں دہند و زندہ درگور روند جائے دارد" جب کہ بعض دوسرے فرماتے ہیں کہ امت سے حجاب اٹھا دیئے جاتے ہیں
جیسا کہ حاشیہ مشکوٰة میں اسی کے تحت ہے قیل یکشف للمیت حتی یر النبی علیہ السلام وھی بشریٰ عظیمة
نیز قسطلانی شرح بخاری جلد ٣ صفحہ ٣٩٠ کتاب الجنائز میں ہے فقیل یکشف للمیت حتی یر النبی علیہ السلام وھی بشریٰ عظیمة للمؤمن ان صح اب چونکہ سوال ثالث کے وقت کیا کیفیت ہوتی ہے اس کی صراحت روایات میں موجود نہیں اور شارحین نے جو تشریح کی اس سے دو صورتیں سامنے آتی ہیں (١) حضور ﷺ کا وجود مثالی پیش کیا جاتا ہے۔ (٢) قبر سے حجاب اٹھائے جاتے ہیں ۔ اب ان میں سے کون سی صورت پیش آتی ہے اس کی صراحت جب روایات میں نہیں ملتی تو تطبیق کی صورت اختیار کی جائے گی اور کہا جائے گا کہ دونوں صورتیں صحیح ہیں۔ اس طور پر کہ بعض حضرات کی قبر میں تشریف لاتے ہیں اور بعض کیلئے حجاب اٹھائے جاتے ہیں۔ اب کس کیلئے حجاب اٹھائے جاتے ہیں اور کس کی قبر میں تشریف لاتے ہیں اس کی بھی صراحت روایات سے نہیں ملتی اس لئے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ تو نہیں کیا جا سکتا البتہ عقل کے تقاضہ کے مطابق انکی قبور میں حضور تشریف نہیں لاتے کیونکہ قبر میں تشریف لانا زیادہ بڑی خوش خبری ہے اور زیادہ باعث فرحت و مسرت ہے اس سے کہ حجاب اٹھاکر جلوہ دکھایا جائے لہذا عقل کا تقاضہ یہی ہے کہ جو حضرات مومن صالح ہیں اور کثرت سے درود پڑھتے ہیں اور رسول اللہﷺ سے سچی محبت کرتے ہیں وہ اس کے مستحق ہیں کہ ان کی قبر میں حضور ﷺ کے وجودِ مثالی کو پیش کیا جائے۔ اور جو متقی پرہیزگار نہیں کثرت سے درود بھی نہیں پڑھتے وہ اس لائق ہیں کہ انہیں دور سے ہی جلوہ دکھایا جائے اسی طرح کفار کو بھی۔ اب یہاں پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ مومنِ غیرصالح اور کافر اس بارے میں برابر ہوگئے۔ جواب ہوگا نہیں کیونکہ کافر پہچانے گا ہی نہیں تو اسے خوش خبری اور فرحت و مسرت چہ معنی دارد؟ جبکہ مومن پہچانےگا تو اس کو فرحت و مسرت بھی ہوگی۔ مذکورہ بالا کلام سے ہمارا مسئلہ بھی واضح ہوگیا کہ وہابی دیوبندی جو کہ منکر ضروریات دین ہیں اللہﷻ و رسول علیہ السلام کے گستاخ ہیں وہ اس لائق نہیں کہ ان کی قبر میں حضور ﷺ تشریف لائیں

الجواب صحیح ابن فقیہ ملت ازہار احمدازہری الجواب صحيح ابو حماد جعفر مصباحی قادری
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمدالمصباحی القادری ٩ ستمبر ٢٠١٨ ء

قنوج اتر پردیش

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only