12.19.2022

قبر اور جنازے میں پھول ڈالنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ قبور مسلمین اور جنازہ مسلمین پر پھول کی شرعی حیثیت کیا ہے اور جس جگہ پھول کا وجود وعدم سنی و دیوبندی کی علامت بن گیا ہو وہاں پھول نہ ہونے کے سبب نماز پڑھانے سے انکار کرنا کیسا ہے بینوا توجروا المستفی محمد اکرم مصباحی کرناٹک

       جواب

قبور مسلمین پر پھول ڈالنا جائز و بہتر اور عملِ حسن اور باعث تخفیف عذاب ہے
حدیث شریف میں ہے عن ابن عباس قال مر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقبرین فقال انھما لیعذبان وما یعذبان فی کبیر أما أحدھما فکان لا یستتر من البول وأما الاخر فکان یمشی بالنمیمۃ ثم أخذ جریدۃ رطبۃ فشقھا نصفین فغرز فی کل قبر واحدۃ قالوا یا رسول اللہ لم فعلت ھذا قال لعلہ یخفف عنھما مالم یببسا

(متفق علیہ)
اس کے تحت اشعۃ اللمعات میں ہے تمسک کنند جماعت بہ ایں حدیث در انداختن سبزہ و گل ریحان بر قبور
اسی کے تحت مرقات میں ہے ومن ثم افتی بعض الائمۃ من متأخری اصحابنا بان ما اعتید من وضع الریحان والجرید سنۃ لھذا الحدیث وقد ذکر البخاری ان یرید ابن الخضیب الصحابی اوصی ان یجعل فی قبرہ جریدتان بعض فقہا نے سنت قرار دیا ہے
جیسا کہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے قد افتی بعض الائمۃ من متاخری اصحابنا بان ما اعتید من وضع الریحان والجرید سنۃ بھذا الحدیث (۳۶۴)
ہندیہ میں ہے وضع الورود والریاحین علی القبور حسن
ردالمحتار میں ہے ویوخذ من ذلک ومن الحدیث ندب وضع ذلک للاتباع ویقاس علیہ ما اعتید فی زماننا من وضع اغصان الاس ونحوہ وتعلیلہ بالتخفیف عنھما مالم ییبسا ای یخفف عنھا ببرکۃ تسبیحھا اذ ھو اکمل من تسبیح الیابس لما فی اخضر نوع حیاۃ
بہار شریعت بحوالہ ردالمحتار ہے قبر پر پھول ڈالنا بہتر ہے کہ جب تک تر رہیں گے تسبیح کریں گے اور میت کا دل بہلے گا (ح۴،ص۸۵۴) جنازہ پر پھول یا پھول کی چادر ڈالنے میں کوئی حرج نہیں (بہار شریعت،ح۴،ص۸۵۵) مذکورہ حدیث اور اقوال فقہا سے واضح ہے کہ مسلمانوں کی قبر پر پھول ڈالنا ایک بہتر عمل ہے اور ہمیشہ سے عوام و خواص اہل سنت کا اس پر عمل در آمد ہے اور کسی نے اسکے بہتر اور جائز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں کیا مگر ماضی قریب میں ایک گمراہ اور فتنہ پرور جماعت پیدا ہوئی جس نے مسلمانوں میں بہت فتنہ اور انتشار کیا اور کئی جائز اور عمدہ اعمال کو ناجائز و بدعت کہا اسی سے قبور پر پھول ڈالنا ہے لہذا قبور پر پھول ڈالنے کو اچھا سمجھنا اور اس پر عمل پیرا ہونا اہل سنت کے معمولات سے ہے اور اسے برا سمجھنا اور برا سمجھ کر منع کرنا دیوبندیت کی علامت ہے اب اگر کوئی برا سمجھ کر اس سے منع کرے تو ضرور اس کے بارے میں دیوبندی وھابی ہونے کا گمان کیا جاے گا مگر اس منع کے سبب اس پر دیوبندی یا ضال و کافر ہونے کا حکم نہ کیا جاے گا البتہ جس جگہ جنازہ مسلم پر پھول ہونا سنی ہونے کی علامت بن گیا اور وہاں کسی جنازہ پر پھول نہ ہونے کے سبب کسی نے شرکت نہ کی یا نماز پڑھانے سے انکار کیا تو اس پر کوئی جرم نہ ہوگا واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمد المصباحی القادری

مقام قنوج یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only