1.09.2023

٥ بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ١٥٠٠٠٠٠ لاکھ روپئے کی تقسیم

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسٔلہ ذیل میں کہ ایک شخص کے حصے میں پندرہ لاکھ روپیہ (١٥٠٠٠٠٠) آۓ اس کے ٥ لڑکے، ٣ لڑکیاں ہیں اس رقم کو ان آٹھ وارثوں پر تقسیم کرنا ہے شرعی طریقہ سے کیسے تقسیم کریں گے حوالوں کے ساتھ جواب عطا فرمائیں نوازش ہوگی المستفی سید ساجد علی قادری

       جواب

بعد تقدیم ما تقدم علی الارث وانحصار ورثۃ فی المذکورین مذکورہ مال سے ہر لڑکی کو ١١٥٣٨٤ روپئے اور ہر لڑکے کو ٢٣٠٧٦٨ روپئے دئے جائیں اور ٨ روپئے باقی رہیں گے جنہیں صدقہ کردیں تو بہتر
قال اللہ تعالٰی فی کتابہ المجید لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ۚ (پارہ ٤،آیت ١١)
فتاوی ہندیہ میں ہے ﻭﻟﻬﺎ اﻟﻨﺼﻒ ﺇﺫا اﻧﻔﺮﺩﺕ ﻭﻟﻠﺒﻨﺘﻴﻦ ﻓﺼﺎﻋﺪا اﻟﺜﻠﺜﺎﻥ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻻﺧﺘﻴﺎﺭ ﺷﺮﺡ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﻭﺇﺫا اﺧﺘﻠﻂ اﻟﺒﻨﻮﻥ ﻭاﻟﺒﻨﺎﺕ ﻋﺼﺐ اﻟﺒﻨﻮﻥ اﻟﺒﻨﺎﺕ ﻓﻴﻜﻮﻥ للاﺑﻦ ﻣﺜﻞ ﺣﻆ اﻷﻧﺜﻴﻴﻦ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﺒﻴﻴﻦ

(ج٦،ص٤٤٨)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمد المصباحی القادری

مقام خادم التدریس جامعہ مظہرالعلوم گرسہاےگنج قنوج یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only