مسلمان کا ہیلو کہہ کر کلام کا آغاز کرنا کیسا

(مسئلہ) کیا فرماتے ہیں علماۓ دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ hello کا کیا معنی ہوتا ہے اور کیا hello کہنا غلط ہے جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا معنی جہنمی ہوتا ہے اور یہ کہنا حرام ہے. بینوا وتوجروا


الجواب مسلمان کا ہیلو کہہ کر کلام کا آغاز کرنا بدعت ہے


یہ سنت کو مٹاتی ہے جو کہ السلام علیکم کہنا ہے اور جو بدعت سنت کو مٹائے وہ سیئہ ہوتی ہے حسنہ نہیں ہوتی


لہذا اس کا معنی جہنمی ہو یا کچھ اچھا ہو اس کی خرابی ختم نہیں ہوتی. پرہیز کی دوسری وجہ نصاری سے مشابہت ہے. لہذا اس سے اجتناب لازم
علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں

أن البدعة هی الفعلة المخترعة فی الدين علی خلاف ما کان عليه النبی ﷺ وکانت عليه الصحابة والتابعون


یعنی بدعت اس فعل کو کہا جاتا ہے جو نبی ﷺ کی سنت کے خلاف گھڑا جائے ایسے ہی وہ عمل صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کے طریقے کے بھی مخالف ہو. (تفسير روح البيان، ٢٤/٩) والله اعلم بالصواب


کتبـــــــــــــــــــــــــہ ابن علیم المصبور الرضوی العینی

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ ڈگری حاصل کی جا رہی ہے...
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
لال سوئی خانہ کعبہ کی سمت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0