اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

وہابی پڑوسی اگر بھوک سے مر گیا تو کیا ہم سے پوچھا جائے گا



(مسئلہ) کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر میرے پڑوس میں دیوبندی شیعہ وغیرہ ہیں، اگر وہ بھوک کی وجہ سے مرتے ہیں تو کیا پوچھ مجھ سے بھی ہوگی؟

(جواب) فى زمانہ دیوبندی، وہابی، شرابی کبابی جو بھی ہیں ان کی اکثریت ان کفریہ عبارات سے انجان ہے جو ان کے اکابرین کہہ گئے۔ لہذا ان تمام پر ارتداد کا فتوی نہیں ہے۔ جب تک ارتداد کا حکم ان پر ثابت نہ ہو ان کی گنتی مسلمانوں میں ہی ہوگی اگرچہ گمراہ، بدمذہب ہی ہوں۔ ایسے لوگوں سے اگرچہ احتیاط برتنے کا حکم ہے لیکن ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں، اگر وہ مرتد ہیں یہ آپ کے علم میں پختہ ہے تو آپ پر الزام نہیں کہ اسے مرتا چھوڑ دیں۔ والله تعالی اعلم

کتبہ ندیم ابن العلیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا 

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست