حیض کی حالت میں جانور ذبح کرنا کیسا

(سئل) مسلمان عورت جانور ذبح کر سکتی ہے یا نہیں؟ عورت حالت حیض یا مرد حالت جنابت میں ہے ہو تو جانور ذبح کر سکتا ہے یا نہیں؟

(فأجاب) ذابح کے لیے مرد ہونا اور طہارت شرط نہیں ہے. لہذا مرد وزن اگرچہ طاہر نہ ہو، ذبح کر سکتے ہیں

قال الإمام رحمه الله عورت کا ذبیحہ جائز ہے جبکہ ذبح کرنا جانتی ہو، اور شرائط حلت مجتمع ہو، درمختار میں ہے شرط کون الذابح مسلما أو کتابیا، ولو امرأۃ (باختصار )(فتاوی رضویہ، ٢٥١/٢٠)

وقال طہارت شرط ذبح نہیں جنب کے ہاتھ کا ذبیحہ بھی درست ہے بلکہ وہ جن کا غسل فی الواقع کبھی نہیں اُترتا یعنی کافران کتابی ان کے ہاتھ کا ذبیحہ سب کتابوں بلکہ خود قرآن عظیم میں حلال فرمایا ہے طعام الذین اوتوا الکتب حل لکم. (فتاوی رضویہ، ٣٢٥/٤)

کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0