معجزات و کرامات کے منکر کا حکم


السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

سوال علماء کرام و فقہاء عظام کی خدمت میں سوال عرض ہے کہ جو شخص حضور سید العلمین شفیع المذنبین علیہ الصلوة والتسلیم کے معجزات کا منکر ہو۔خصوصا معجزہ رجعت شمس و شق القمر کااور صحابہ کرام اولیاءاللہ رضوان اللہ عليهم اجمعين کی کرامات کا انکار کرتا ہوتواز روئے شرع متین اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟اور لا علمی کی بناء پر انکار کر تا ہو تو کیا حکم ہے؟

مدلل و مفصل جواب عطا فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

سائل:محمد سیف رضوی

وعلیکم السلام و رحمة الله تعالى وبركاته

الجواب:اگر دلائل کی بناء پر کچھ معجزات کا انکار کرے اور سرکار ﷺ کی عظمت کو کم کرنا مقصود نہ ہو اور واقعی دلیل میں نقص ہو تو اس انکار میں حرج نہیں

رجعت شمس (شرح معانی الاثار) اور شق القمر (صحیح البخاری) یہ دونوں معجزات احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں صحيح جان کر ان کا بلا وجہ انکار ضلالت ہے. اور مطلقا تمام معجزات کا ہی منکر ہو تو کافر ہے معجزات پر نصوص صریحہ، دلائل قطعیہ موجود ہیں

واللہ تعالی اعلم

 کتبہ ندیم ابن علیم العینی

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0