سرخ رنگ کا عمامہ باندھنا کیسا ہے؟


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ میرا سوال یہ ہے کہ کیا سرخ رنگ کا عمامہ شریف باندھ سکتے ہیں؟حضرت میں نے سرخ رنگ کا عمامہ شریف باندھا تھا، کئی لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں. برائے مہربانی دلائل کے ساتھ وضاحت فرمائیں

المستفتی :محمد وسیم عطاری

الجواب سرخ رنگ کا عمامہ پہننا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے چنانچہ سنن ابی داؤد اور ابن ماجہ شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت موجود ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں وضو کرتے دیکھا کہ آپ کے سر اقدس پر قطری عمامہ موجود تھا {وعلیہ عمامۃ قطریۃ}

قطری عمامہ کی وضاحت یہ ہے کہ عمان اور سیف البحر کے وسط میں قطر بحرین کا ایک علاقہ ہے زمانہ نبوی میں وہاں کی سرخ رنگ کی دھاری دار چادریں مشہور تھیں ان میں بیل بوٹے بنے ہوتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی سرخ رنگ کا قطری عمامہ شریف سر اقدس پر سجا رکھا تھا معلوم ہوا کہ سرخ رنگ کا عمامہ شریف باندھنا سنت ہے

سنن ابی داؤد اور سنن ابن ماجہ کے الفاظ حسب ذیل ہیں

(1)عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ، وَلَمْ يَنْقُضِ الْعِمَامَةَ.(سنن أبي داود | كِتَابُ الطَّهَارَةِ | بَابٌ الْمَسْحُ عَلَى الْعِمَامَةِ) 

(2) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضِ الْعِمَامَةَ.(سنن ابن ماجه كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا | بَابٌ مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ)

امام طبرانی نے ایک روایت ذکر فرمائی جس میں صراحت ہے کہ حضرت جبریل امین علیہ السلام سے بھی سرخ عمامہ پہننا ثابت ہے 

عن شهر بن حوشب عن عائشة قالت «رأيت جبريل عليه السلام عليه عمامة حمراء يرخيها بين كتفيه»(المعجم الأوسط (5 / 381) 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو سرخ عمامہ باندھے ہوئے دیکھا جس کا شملہ اپنے دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکارکھا تھا

مہاجرین اولین سے عمامہ کے جو رنگ ثابت ہیں ان میں ایک سرخ رنگ بھی ہے مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک روایت ہے

عن سلیمان بن ابی عبداللّٰہ قال ادرکت المہاجرین الاولین یعتمون بعمائم کرابیس سود و بیض و حمر و خضر و صفر یضع احدھم العمامۃ علی راسہ ویضع القلنسوۃ فوقھا ثم یدیر العمامۃ ھکذا یعنی علی کورہ لایخرجھا من تحت ذقنہ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 8 ص 241)

یعنی سلیمان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مہاجرین اولین رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ سیاہ  سفید سرخ سبز اور زرد رنگ کا عمامہ پہنتے پایا ان میں کا ایک شخص عمامہ کو اپنے سر پر رکھتا پھر عمامہ کو یوں گھماتا یعنی اس کے پیچ پر اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے سے نہ نکالتا

حضرت ملا احمد جیون انبیٹھوی لکھنوی علیہ الرحمہ نے بھی سرخ رنگ والے عمامہ کو سنت بتایا ہے 

سرکار صلی الله عليه وآله وسلم کا عمامہ سرخ و سیاہ ہوتا تھا (نورالانوار ص 179) واللہ تعالٰی اعلم

کتبہ فیضان_سرور_مصباحی  22/شوال 1439ھ شائع کردہ :ایف ایم فاؤنڈیشن

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0