اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

بچہ پانی میں ہاتھ ڈال دیں تو وضو کرنا کیسا


کیا فرماتےہیں علمائے کِرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ میں کہ حیض و نفاس والی عورت یا نابالغ بچہ یا بچی یا کافر مرد یا عورت دہ در دہ سے کم پانی میں انگلی ڈال دے تو اس پانی سے وضو کرنا جائز ہے انہیں ؟  


الجواب بعون اللہ تعالیٰ  مذکورہ صورت میں ایسے پانی سے وضو کرنا ناجائز ہے 

فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے

کسی حدث اکبر یا اصغر والے کا ہاتھ بغیر دھوئے جب کسی دہ در دہ پانی سے کم میں پڑ جائے گا اس سب کو قابلِ وضو نہ رکھےگا اور اگر ہاتھ دھولینے کےبعد پڑا تو کچھ حرج نہیں عورت حیض کی وجہ سے اس وقت حدث والی ہوگی جب حیض منقطع ہوجائے اس سے پہلے نہ اسے حدث ہے نہ حکم غسل اس کا ہاتھ پڑنے سے قابلِ وضو و غسل رہےگا جلد سوم ص ۲۵۴ ( مزکرِ اہلِ سنت برکاتِ رضا )

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتےہیں

بچہ یا کافر نے پانی میں ہاتھ ڈال دیا تو اگر ان کے ہاتھ کا نجس ہونا معلوم ہے جب تو ظاہر ہے کہ پانی نجس ہوگیا ورنہ نجس نہ ہوا مگر دوسرے پانی سے وضو کرنا بہتر ہے 

بہارِ شریعت حصہ سوم ص ۳۳۸

والله تعالیٰ اعلم

کتبہ محمد عمار رضا قادری رضوی متعلم تخصص فی الفقہ الحنفی جامعہ سعدیہ عربیہ کاسرگوڈ کیرلا

الجواب صحیح محمد اشفاق احمد رضوی مصباحی صدر شعبۂ افتاء جامعہ سعدیہ کیرلا 

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست