بالغ مرد یا عورت کسی عذر سے پاکی حاصل نہ کر سکے تو ؟


مسئلہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسٔلۂ ذیل کے بارے میں کہ اگر کوئی بالغ مرد و عورت عذر کی وجہ سے خود سے استنجاء نہ کر سکتا ہو تو آخر اسکے پاکی حاصل کرنے کی کیا صورت ہے؟ اور نماز ادا کیسے کرے ؟

الجواب بعون الملک الوھاب اگر بالغ مرد و عورت عذر کی وجہ سے استنجاء نہ کر پا رہا ہو اور مرد کے پاس اسکی بیوی یا باندی نہ ہو اور عورت کے پاس انکا شوہر نہ ہو تو ایسی صورت میں دونوں سے استنجاء کرنا ساقط ہو جاتا ہے لہذا ویسے ہی نماز ادا کرے جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے الرجل المريض اذا لم يكن له امرأة ولا أمة و له إبن أو أخ وهو لا يقدر على الوضوء فإنه يوضيه إبنه أو أخوه غير الاستنجاء فإنه لا يمس فرجه و سقط عنه الاستنجاء المرأة المريضة اذا لم يكن لها زوج و عجزت عن الوضوء و لها ابنة أو اخت توضيها و يسقط عنها الاستنجاء

جلد ١ کتاب الطھارۃ الباب السابع الفصل الثالث۔كيفية الاستنجاء من البول

والله اعلم بالصواب

كتبه محمد منصور عالم شعبة  دورة التخصص فى الفقه الحنفي جامعہ سعدیہ عربیہ کاسرگوڈ کیرالا

الجواب صحیح محمد اشفاق احمد رضوی صدر شعبۂ افتاء جامعہ سعدیہ عربیہ کیرالا 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق یا نیا سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز (آج کا شیڈول)

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
نوٹ: 1 سے 2 منٹ کی احتیاط ملحوظ رکھیں۔

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ رخ: تقریباً 265° مغرب-جنوب
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
موبائل کو بالکل سیدھا ہاتھ پر رکھیں۔ لال سوئی کا رخ کعبہ شریف کی سمت کی طرف گھوم جائے گا۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے مال، نقدی اور سونے چاندی کی مالیت درج کریں:

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0