اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

وضو کےپانی میں اگر ناخن والی انگلی ڈوب جاے تو؟


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سوال__________↓↓↓

وضو کےپانی میں اگر ناخن والی انگلی ڈوب جاے تو وضو ہوگا کیا نہیں جواب دیکر شکریہ کا موقع فراہم کریں

سائل. واحد قمرگریڈیہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجـــــوابــــــــــــــــــ بعون الملک الوہاب

اس سوال کے متعلق جواب میں علامہ صدرالشریعہ بدرالطریقہ علیہ الرحمہ اپنی کتاب مشہور زمانہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر بے وضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا پورایا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وضو میں دھویا جاتا ہو بقصد یا بلا قصد دہ در دہ سے کم پانی میں بے دھوۓ ہوۓ پڑ جائے تو وہ پانی وضو یا غسل کے لائق نہ رہا اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جسم کا کوئی بے دھلا ہوا حصہ پانی سے چھو جاۓ تو وہ پانی وضو اور غسل کے کام کا نہ رہا اور اگر دھلا ہوا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ پڑ جائے تو حرج نہیں

(بہار شریعت حصہ دوم صفحہ نمبر 335)

تو مذکورہ حوالہ جات سے یہ صاف ظاہر و باہر ہوگیا کہ اگر بے وضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا پورایا ناخن بقصد یا بلا قصد دہ در دہ سے کم پانی میں پڑ جائے تو وہ پانی وضو یا غسل کے لائق نہ رہا اگر کسی نے اس پانی سے وضو کیا تو اس کا وضو درست نہ ہوگا

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی خطیب و امام جامع مسجد مہا سمند (چھتیس گڑھ) رابطہ نمبر 

7860124553

❤️━━━━━━━(💚) ━━━━━━━❤️

شائع کردہ سُــنی مسائل شریعہ گـروپ 

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست