ظہر کی سنت چاروں بھری ہیں یا خالی


(مسئلہ) ظہر کی چار رکعت سنت میں کتنے رکعت میں سورت ملانا چاہے اور کتنے میں نہیں؟

(جواب) سنت ونفل کی ہر رکعت میں ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں کی مقدار فاتحہ کے علاوہ تلاوت قرآن واجب ہے لہذا سنت ظہر کی ہر رکعت میں سورت ملانا ہی چاہیے قال ابن نجیم رحمة الله عليه وهذا الضم واجب في الأوليين من الفرض وفي جميع ركعات النفل والوتر كالفاتحة ، وأما في الأخريين من الفرض فليس بواجب ولا سنة بل هو مشروع فلو ضم السورة إلى الفاتحة في الأخريين لا يكون مكروها كما نقله في غاية البيان عن فخر الإسلام (بحر الرائق ٥١٦/١) ابن نجیم فرماتے ہیں سورت ملانا فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل ووتر کی تمام رکعتوں میں اسی طرح واجب ہے جیسے سورۃ فاتحہ لیکن فرض کی آخری دو رکعتوں میں یہ نہ واجب ہے اور نہ سنت بلکہ مشروع ہے اگر ان آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورت ملائی جائے تو یہ مکروہ نہ ہوگا جیسا کہ غایة البیان میں فخر الاسلام سے نقل منقول ہے والله تعالى اعلم

کتبہ ندیم المصبور العینی 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق یا نیا سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز (آج کا شیڈول)

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
نوٹ: 1 سے 2 منٹ کی احتیاط ملحوظ رکھیں۔

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ رخ: تقریباً 265° مغرب-جنوب
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
موبائل کو بالکل سیدھا ہاتھ پر رکھیں۔ لال سوئی کا رخ کعبہ شریف کی سمت کی طرف گھوم جائے گا۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے مال، نقدی اور سونے چاندی کی مالیت درج کریں:

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0