اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

عالم کے سامنے غیر عالم کا خطاب کرنا کیسا؟


(سوال) کہا جاتا ہے کہ عالم شخص کے سامنے کسی غیر عالم کا وعظ وخطاب کرنا حرام ہے اس کے بارے میں کیا مسئلہ ہے؟

(جواب) غیر عالم شخص کا دینی موضوع پر وعظ وخطاب کرنا حرام ہے جب وہ اس بارے میں اتنا علم نہ رکھتا ہو کہ غلطی کے امکان کے بغیر خطاب کرسکے اور نہ اتنی استطاعت کہ اپنی کہی گئی باتوں کو شرعا یا عقلا ثابت کرسکے جس طرح عالم کے سامنے جاہل کا خطاب جائز نہیں اسی طرح اس کی غیر موجودگی میں بھی اور عالم جو وافر علم رکھتا ہو اگرچہ سند یافتہ نہ ہو اور اس کا عالم ہونا معروف نہ ہو وہ اپنے سے بڑے عالم یا سند یافتہ کی موجودگی میں عوام کو وعظ ونصحیت کرسکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی 

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست