عالم کے سامنے غیر عالم کا خطاب کرنا کیسا؟


(سوال) کہا جاتا ہے کہ عالم شخص کے سامنے کسی غیر عالم کا وعظ وخطاب کرنا حرام ہے اس کے بارے میں کیا مسئلہ ہے؟

(جواب) غیر عالم شخص کا دینی موضوع پر وعظ وخطاب کرنا حرام ہے جب وہ اس بارے میں اتنا علم نہ رکھتا ہو کہ غلطی کے امکان کے بغیر خطاب کرسکے اور نہ اتنی استطاعت کہ اپنی کہی گئی باتوں کو شرعا یا عقلا ثابت کرسکے جس طرح عالم کے سامنے جاہل کا خطاب جائز نہیں اسی طرح اس کی غیر موجودگی میں بھی اور عالم جو وافر علم رکھتا ہو اگرچہ سند یافتہ نہ ہو اور اس کا عالم ہونا معروف نہ ہو وہ اپنے سے بڑے عالم یا سند یافتہ کی موجودگی میں عوام کو وعظ ونصحیت کرسکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ ڈگری حاصل کی جا رہی ہے...
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
لال سوئی خانہ کعبہ کی سمت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0