(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس کے متعلق کہ میت کو دفن کرتے وقت اس کے دونوں ہاتھوں کو اس کے سینے پر رکھنا کیسا ہے؟ اس کے دونوں ہاتھوں کو کہاں رکھنا چاہیے؟ دلائل سے مزین جواب عنایت فرما کر عند الله ماجور ہوں۔
(جواب) میت کے ہاتھوں کو اس کے دونوں پہلوؤں کے ساتھ سیدھا رکھا جاتا ہے در مختار میں ہے: «وَيُوضَعُ يَدَاهُ فِي جَانِبَيْهِ لَا عَلَى صَدْرِهِ لِأَنَّهُ مِنْ عَمَلِ الْكُفَّارِ» یعنی: میت کے دونوں ہاتھ اس کے دونوں پہلوؤں کے ساتھ رکھے جائیں، سینے پر نہ رکھے جائیں؛ کیونکہ سینے پر ہاتھ رکھنا کفار کے طریقے سے مشابہ ہے۔ (الدر المختار، ص: ١١٧) لہٰذا میت کو کفن دینے کے بعد اس کے دونوں ہاتھ سیدھے کرکے رانوں کے ساتھ رکھے جائیں، سینے پر ہاتھ باندھنے کی ہیئت نہ بنائی جائے۔ والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(سوال) میرے ایک دوست نے ۴ ہزار روپے مانگے اور کہا کہ ایک مہینے بعد ۵ ہزار دے دوں گا۔ کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟ اور اگر اس طرح کرنا صحیح نہیں ہے تو اس سے بچنے کی کیا صورتیں ہوسکتی ہیں؟
(جواب) یہ صاف سود ہے اور کسی جائز حیلے سے بھی ایسا کرنا مناسب نہیں ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(سوال) صحابۂ کرام رضی الله عنهم پر اہلِ بیتِ اطہار رضی الله عنهم کو فضیلت دینا کیسا ہے؟
(جواب) اہل بیت کے علاوہ دیگر صحابۂ کرام پر اہلِ بیت کو مطلقاً افضل قرار دینا اہلِ سنت کے مسلمہ عقیدے کے خلاف ہے۔ اہلِ سنت کے نزدیک نبی کریم محمد ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله عنه، پھر حضرت سیدنا عمر فاروق رضی الله عنه، پھر حضرت سیدنا عثمان غنی رضی الله عنه، پھر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی الله عنه ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بعض یا اکثر اہل بیت اکثر یا بعض صحابہ سے افضل ہوں لیکن ان کی باہمی فضیلت کا ترتیب وار تعین کرنا مشکل ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(سوال) اگر حضرت اسرافیل، جبرائیل اور میکائیل علیهم السلام، حاملانِ عرش کے فرشتے اور نبی کریم محمد ﷺ بھی کسی شخص کے لیے دعا کریں، تب بھی اس کی شادی صرف اسی عورت سے ہوگی جو الله پاک نے اس کے لیے لکھی ہے—اس روایت کی کیا شرح ہے؟
(جواب) امام جلال الدین سیوطی رحمة الله عليه نے اسے الجامع الصغير میں ذکر کیا ہے اور اس پر علامتِ ضعف لگائی ہے اس کے الفاظ یوں منقول ہیں: أن رجلا من الأنصار أتى رسول الله (ﷺ) فقال إني أريد أن أتزوج امرأة فادع لي فأعرض عنه ثلاث مرات كل ذكل يقول ثم التفت إليه فقال الو دعا لك إسرافيل وجبريل وميكائيل وحملة العرش وأنا فيهم ما تزوجت إلا المرأة التي كتبت لك. (تاریخ دمشق، ٣٩٥/٥٢) یعنی ایک انصاری شخص رسول الله ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں ایک عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، آپ میرے لیے دعا فرمائیں۔‘‘ آپ ﷺ نے تین مرتبہ اس سے اعراض فرمایا ہر مرتبہ وہ یہی بات عرض کرتا رہا۔ پھر آپ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’اگر حضرت اسرافیل، جبرائیل میکائیل علیهم السلام، حاملانِ عرش اور میں سب تمہارے لیے دعا کریں، تب بھی تمہارا نکاح اسی عورت سے ہوگا جو الله تعالى نے تمہارے لیے لکھ دی ہے
اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ الله تعالى کے علمِ ازلی کے خلاف کوئی چیز واقع نہیں ہوسکتی؛ اگر کسی شخص کے لیے کسی عورت سے نکاح مقدر ہے تو وہ نکاح ضرور ہوگا، خواہ تمام مخلوق اس کے خلاف دعا کرے، اور اگر نکاح مقدر نہیں تو محض کسی کی دعا سے وہ لازماً واقع نہیں ہوگا۔ تقدیر کے اعتبار سے تقدیرِ مُبْرَم وہ حتمی فیصلہ ہے جو الله تعالى کے علمِ ازلی میں ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی، جبکہ تقدیرِ مُعَلَّق وہ ہے جو کسی سبب یا شرط کے ساتھ متعلق ہوتی ہے؛ مثلاً دعا، صدقہ یا صلۂ رحمی کے ذریعے کسی بلا کا ٹلنا، اور دعا کا مؤثر ہونا بھی خود الله تعالى کی تقدیر میں پہلے سے مقرر ہوتا ہے۔ لہٰذا تقدیر پر ایمان کا مطلب دعا اور اسباب کو چھوڑ دینا نہیں، بلکہ دعا کرنا بھی تقدیر ہی کا حصہ ہے۔
یہ روایت سے یہ بھی مفہوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ تقدیر مبرم ومعلق سے واقف ہیں یعنی ان چیزوں سے آگاہ ہیں جو قابل قبول ہوں گی یا مردود ہوں گی والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں اگر کوئی شخص خود کو دیش بھکت کہے تو اس پر شریعت کا کیا حکم ہے؟
(جواب) دیش بھکت ہندی لفظ ہے جس کے عرفی معنی وطن سے محبت رکھنے والا اپنے ملک سے وفادار اور اس کی بھلائی چاہنے والا کے ہیں۔ محض اس معنی میں کوئی مسلمان اپنے آپ کو دیش بھکت کہے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں اور اسے کہنے کی وجہ سے حکم کفر وفسق نہ ہوگا۔ والله تعالى أعلم بالصواب
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
