📊 اسلامی معلومات گروپ ایک نظر میں

2326+
کل فتاویٰ
5000+
روزانہ زائرین
50+
فقہی ابواب
حنفی
مسلکِ اہل سنت

اپنے سوالات بھیجے

❓ شرعی سوال پوچھیں: نماز، روزہ، نکاح، طلاق اور دیگر مسائل کے لیے WhatsApp پر رابطہ کریں

جسے معلوم نہ ہو کتنی نمازیں قضاء ہیں تو وہ کیا کریں


مسئلہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس پر قضا نماز یں زیادہ ہوں وہ ان کی نیت کیونکر کرے اور قضا میں کیا کیا نماز پڑھی جاتی ہے اور جس کے ذمہ قضائیں بہت کثیر ہیں جن کی ادا سخت دشوار ہے تو آیا اس کے لئے کوئی تخفیف نکل سکتی ہے جس سے ادا میں آسانی ہوجائے کہ ادا میں جلدی منظور ہے کہ موت کا وقت معلوم نہیں بنیوا توجروا

الجواب لامـــام احمــــــد رضــا رحمه الله

قضا ہر روز کی نماز کی فقط بیس رکعتوں کی ہوتی ہے دو فرض فجر کے، چارظہر، چار عصر، تین مغرب چار عشاء کے تین وتر۔ اور قضا میں یوں نیت کرنی ضرور ہے کہ نیت کی میں نے پہلی فجر جو مجھ سے قضا ہوئی یا پہلی ظہر جو مجھ سے قضا ہوئی اسی طرح ہمیشہ ہر نماز میں کیا کرے اور جس پر قضا نماز میں بہت کثرت سے ہیں وہ آسانی کے لئے اگریوں بھی ادا کرے تو جائز ہے کہ ہر رکوع اور ہر سجدہ میں تین تین بار سبحان ربی العظیم، سبحان ربی الاعلی کی جگہ صرف ایک بار کہے، مگر یہ ہمیشہ ہر طرح کی نماز میں یاد رکھنا چاہئے کہ جب آدمی رکوع میں پورا پہنچ جائے اس وقت سبحان کا سین شروع کرے اور جب عظیم کا میم ختم کرے اس وقت رکوع سے سر اٹھائے اسی طرح جب سجدوں میں پورا پہنچ لے اس وقت تسبیح شروع کرے اور جب پوری تسبیح ختم کرلے اس وقت سجدہ سے سر اٹھائے بہت سے لوگ جو رکوع سجدہ میں آتے جاتے یہ تسبیح پڑھتے ہیں بہت غلطی کرتے ہیں ایک تخفیف کثرت قضا والوں کی یہ ہوسکتی ہے ، دوسری تخفیف یہ کہ فرضوں کی تیسر ی ور چوتھی رکعت میں الحمد شریف کی جگہ سبحان ﷲ سبحان ﷲ سبحان ﷲ تین بار کہہ کر رکوع میں چلے جائیں مگر وہی خیال یہاں بھی ضرور ہے کہ سیدھے کھڑے ہو کر سبحان ﷲ شروع کریں اور سبحان ﷲ پورے کھڑے کھڑے کہہ کر رکوع کے لئے سر جھکائیں یہ تخفیف فقط فرضوں کی تیسری چوتھی رکعت میں ہے وتروں کی تینوں رکعتوں میں الحمد اور سورت دونوں ضرور پڑھی جائیں تیسری تخفیف پھلی التحیات کے بعد دونوں درودوں اور دعا کی جگہ صرف اللھم صلی علی محمد والہ کہہ کر سلام پھیردیں چوتھی تخفیف وتروں کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی جگہ ﷲ اکبر کہہ کر فقط ایک یا تین بار رب اغفرلی کہے وﷲ تعالٰی اعلم

(العطاء النبویہ کتاب الصلوۃ 8/157)

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ